Safar Zafar

مکشپوری کہانی (سفرظفر کی یادداشت سے)

اس جگہ کا اصل نام “مکشپوری” ہے — سنسکرت کا لفظ، جس کا مطلب ہے نجات کی جگہ۔ مگر آج کل یہ “مشک پوری” کے نام سے مشہور ہے… یہ مقام ایبٹ آباد سے مری کی جانب جاتے ہوئے ایوبیہ نیشنل پارک کے پہلو میں واقع ہے۔

وہاں پہنچنے کے بعد پہلا سوال خود سے یہ ہوتا ہے: کیا میں تیار ہوں؟ اور یہ سوال صرف جسمانی نہیں، ذہنی اور روحانی بھی ہوتا ہےاور جب ہم اس کی چڑھائی کا سامنا کرتے ہیں تو یہ نجات سے زیادہ ایک آزمائش محسوس ہوتی ہے۔

ہائیکنگ شروع ہی کی تھی کہ بدن نے بغاوت کر دی۔ سانسیں بے ترتیب، ٹانگیں تھکی تھکی، اور دل نے سرگوشی کی: “بس، واپس پلٹ جاؤ… یہ تمہارے بس کی بات نہیں۔”

اسی لمحے عقل نے دل کو چپ کرایا، اور جسم کو آرام دینے کا فیصلہ کیا۔

چنانچہ… گھوڑے کی سواری کا بندوبست کیا گیا۔

گھوڑے کی پشت پر سوار ہونا صرف جسمانی مدد نہیں تھی، بلکہ وہ ایک الگ ہی تجربہ تھا۔
آہستہ آہستہ اوپر چڑھتے ہوئے، گھوڑے والے نوجوان سے گفتگو بھی چلتی رہی۔
وہ راستے کی کہانیاں سناتا، پہاڑوں کی باتیں کرتا، اور میں کبھی سوال پوچھتا، کبھی خاموشی سے ان پہاڑوں کو دیکھتا جو جیسے سینے پر مہربانی رکھے مجھے تھامے ہوئے تھے۔

یہ سفر اب محض ایک چڑھائی نہیں رہا تھا — یہ ایک مکالمہ بن چکا تھا۔ انسان، قدرت اور وقت کے درمیان۔

جیسے جیسے ہم بلندی کی طرف بڑھتے گئے، نظارے بدلتے گئے۔ دھند کے پردے، چیڑ کے درختوں کی قطاریں، اور ہوا میں بسی ٹھنڈک، دل کو نرم کرتی جاتی تھی۔ آخر وہ لمحہ آ گیا جب ہم مکشپوری ٹاپ پر پہنچے — جب 2800 میٹر بلندی پر مکشپوری ٹاپ پر قدم رکھا، تو منظر ایسا تھا جو بیان سے باہر ہے۔ بادلوں کی تہوں میں لپٹی وادیاں، سرسبز فرش، اور دور تک پھیلا سکون۔

وہاں چائے اور کافی کے چند سادہ سے سٹال بھی موجود تھے — جو اُس وقت کسی نعمت سے کم نہ لگے۔

نیچے اترنا آسان تھا، شاید اس لیے کہ دل ہلکا ہو چکا تھا۔ جیسے قدرت نے خود ہی راستہ ہموار کر دیا ہو۔ اب ہر قدم میں ایک شکرگزاری تھی، ہر سانس میں ایک تسکین۔

اور ہاں… منٹھار!!
اس سارے سفر کا ایک اور اہم کردار — میرے ہمسفر منٹھار! اگر اس کا ذکر نہ ہو تو یہ تحریر ادھوری ہے۔ اُس کی بےساختہ باتیں، بچوں جیسی حیرت، اور ہر منظر کو پہلی بار دیکھنے جیسی خوشی — یہ سب کچھ اس سفر کو محض یادگار نہیں بلکہ زندگی کا حصہ بنا گیا۔

پاکستان — سیاحوں کے لیے چھپی جنت
مکشپوری جیسی جگہیں صرف جغرافیائی مقامات نہیں، بلکہ یہ احساسات، تجربات اور قدرت کے ساتھ تعلق کا وسیلہ ہیں۔ پاکستان میں درجنوں ایسے مقامات ہیں — نیلم، کالام، ہنزہ، چترال، اور بیشمار وادیاں — جہاں صرف خوبصورتی نہیں، ایک پیغام بھی ہے: خود کو تلاش کرو، قدرت کو محسوس کرو، اور اس دھرتی سے رشتہ مضبوط کرو۔

اگر آپ روحانی سکون، قدرتی خوبصورتی، اور خود سے ملاقات کی تلاش میں ہیں، تو مکشپوری جیسے مقامات آپ کا انتظار کر رہے ہیں۔

تو آئیے — پاکستان کو دیکھیں، محسوس کریں، اور محبت کریں.

ہائیکنگ شروع ہوتے ہی بدن نے بغاوت کر دی —
سانسیں بے ترتیب ہو گئیں، اور دل نے سرگوشی کی:
“بس، واپس پلٹ چلو… یہ تمہارے بس کی بات نہیں۔”
اسی لمحے عقل نے دل کو چپ کرایا اور فیصلہ کیا:
“گھوڑے کی سواری کا بندوبست کیا جائے.

 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

error: Content is protected !!